یہ ایوب دور میں الیکشن کے دنوں کا قصہ ہے ۔ اُن دنوں عوام الناس اشتراکیت( سوشلزم) کی طرف کافی مائل ہو رہی تھی ۔ روس اور چین میں اشتراکیت کا دور دورہ تھا جس کے اثرات پاکستان میں بھی کسی حد تک نظر آنے لگے تھے ۔ مغربی پنجاب کے مغربی سرحدی علاقے میں ایک ادنیٰ مزدور ورکر دیکھتے ہی دیکھتے اچھی خاصی سیاسی مقبولیت حاصل کرگیا ۔ چنانچہ بڑے ذمینداروں کے لیئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔ لوگوں میں جوش اور جذبہ دیدنی تھا ۔ دور دور کے علاقوں سے لوگ اُس مزدور رہنما کی سیاسی ریلیاں دیکھنے کیلئے آنے لگے ۔ لوگوں میں تجسّس تھا کہ علاقے کا وڈیرہ مزدور رہنما کی سیاسی پیش رفت کو روکنے کہ لیئے کیا ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے؟ جبکہ مزدور رہنما کا سیاسی قد بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ انگنت صدیوں کی تاریک بہیمانہ محرومیاں مزدور رہنما کے حق میں تیزی سے لوگوں کی حمایت کی صورت میں عیاں ہونے لگیں ۔ عوام کو ماضی کی معاشی ذیادتیوں کا حساب چکانے کا راستہ مل گیا ۔
ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ مزدور رہنما نے ایک بڑااہم سیاسی فیصلہ کیا اور وڈیرے کے پاس جاکے الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مانگی ۔ لوگوں کی حیرت کی انتہا¿ نہ رہی جب وڈیرے نے نہ صرف اجازت دے دی بلکہ یہ اعلان کیا کہ وہ الیکشن میں مزدور رہنما کی’بھرپور‘ ہمایت بھی کرے گا ۔ لوگوں کی خوشی دیدنی تھی ۔ اتنی آسانی سے راستہ ہموار ہو جائے گا کبھی کسی نے سوچا نہ تھا ۔
تاریخی واقعہ، جس کانوجوان ساتھیوں کیلئے بطور سبق ذکر کرنے کیلئے اوپر تمہید باندھی گئی ہے، اُس وقت پیش آیاجب الیکشن سے قریب ایک ریلی کے دوران مزدور رہنمانے پُر جوش تالیوں کی گونج میں تقریر شروع کی ۔ ڈائس پر مزدور رہنماکے پیچھے وڈیرہ ایک منصوبے کے تحت کھڑا تھا ۔ اسی اثناءمیں سامنے والے کچے مکان سے گولی چلی جوکہ سیدھی مزدور رہنما کے سینے میں آکے لگی ۔ مزدور رہنمانے ایک آہ بھری اور پیچھے کی طرف گرنے لگا کہ اسی اثناءمیں وڈیرے نے آگے بڑہ کر اُسے تھام لیا ۔ روایت ہے کہ وڈیرے نے آخری سانسیں لیتے ہوے مزدور رہنماکے کان میں پنجابی میں کہا ’جے سیاست کرینی تے وت آہ نئی بھرینی ‘ یعنی جب سیاست کرتے ہیں تو پھر آہ نہیں بھرا کرتے۔
ایک اور سبق آموذ واقعہ صدیوں پہلے سندھ کی دھرتی پے پیش آیا جب صوفی شاہ عنایت اللہ شہید نے ’جو کھیڑے وہ کھاوے‘ یعنی جو بوئے وہ کھائے کا تاریخی نعرہ بلند کیا ۔ ویسے شاہ عنایت کو عموماًسندھ کے پہلے سوشلسٹ صوفی کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے مگر یہ تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے کیونکہ صوفیا¿تو صرف امرِربّانی کے طفیل حق بات کرتے ہیں اور انکا پیغام تو آفاقی ہوتا ہے۔خیر قصہ مختصر یہ کہ شاہ عنایت کو راستے سے ہٹانے کے لئے انکے خلاف سازش تیار کی گئی جس کے تحت اُن پر مزاروں کو بادشاہ وقت، دہلی کے فرمانروا فرخ سیر، کیخلاف اکسانے اور سازش کرنے کے الزام میں سندھ کے حکمران یار محمد کلھوڑو نے فرخ کے غلط معلومات پر مبنی حکم پہ اُس وقت تختہ دار پہ لٹکا دیا جب وہ مذاکرات کرنے کے لیئے آمادہ ہو گئے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ شاہ عنایت نے پردہ کرتے وقت جلاد سے فرمایا کہ مجھے اس بات کا افسوس نہیں کہ مجھے مارا جا رہا ہے بلکہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ آپ لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو مار رہے ہیں ۔




superb….:)
Thx…
jb Hazarat usman ko shaheed kya gya tha tou un k alfaz yeh thay k mujy yeh afsos nae k main shaheed kya gya ho afsos yeh hai k musalman bekhar jy gy qayamat tak k leay istrha jb bhe koi haq ki bat krta hai us ki awaz daba di jti hai… munfqeen tou azal sy hian or abad tak rahy gy Allah sub ko hadyat daay ….
Ameen!
kash hum tarekh sy sekhaaa…
Kash
very interesting nd informative
Thx so much!
Classy
Well said Sir, You wrote excellently, classy & very informative.
waiting for your next column.
Best of luck
Thanks so much Sir… best comment so far!
very nice.
keep it up
Thx… God bless you!
Excellent
Thx Sir…
very nice and informative
Thx… Good to know you benefited from it too!
Very informative sir g. Our history is full of bitter taste. But there are always some lessons for us…if we wanna learn them.
Thx… You promised to criticize but did not, why?… In view of this I think our dialogue at another forum needs to be shared with readers here to augment constructive discussion:
Salman Syed: Sir what do think about the suitable form of democracy in Pakistan?? Presidential or Parliamentary?? In my opinion Presidential form can create more tensions among the provinces because already some parts of the country are facing total alienation, specially Baluchistan.
Waqar Haider: Presidential cum Parliamentary 100%… Just like USA where all states are independent and have their own systems / laws… In the wake of 18th Amendment presidential form of parliamentary government would work just fine… the answer lies in your statement that some parts of the country are facing total alienation as a protest against centralized control and we have semi-presidential form of govt. in which PM & President both share some powers… in practice who is maneuvering the strings in Pakistan? President na… provincial dis-harmony ka cause security agencies ki interventions hain… locus of power GHQ (ISI&MI) ke paas hai na ke democratic institutions ke paas… SC ray of hope hai hum sab ke liyeh lekin yaad rakhein qanoon ‘andha’ hota hai… woh law aur merit pe jaata hai aur naffa nuqsaan nahin deikhta!
آپ کی ویب سائٹ بہت اچھی ہیں اور آپ اچھی چیزیں بھی لکھتے ہیں۔ ایسے ہی لکھتے رہیں اور خوش رہیں۔
Thx so much!